اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ نوجوان کشمیری مذہبی اسکالر وسیم رضا نے کلب جواد کے حالیہ دورہ کشمیر کو فلاپ شو قرار دیتے ہوئے اسے کشمیر میں مسلمانوں کے مابین اختلافات کی آگ کے لاوے کو بھڑکانے کی کوشش سے تعبیر کیا۔
جاری ایک بیان میں نوجوان مذہبی اسکالر اور سماجی و سیاسی تجزیہ نگار وسیم رضا کشمیری نے سید کلب جواد کو مشورہ دیا کہ وہ اختلافات کا بیج بو کر جموں وکشمیر کے سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ اگر چہ کلب جواد کا دورہ لوگوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی حکمت عملی کا واضح پیغام تھا ، تاہم یہاں کے لوگ ایسے اقدامات کو بہتر انداز میں سمجھتے ہوئے وحدت اور ہمدلی کے ذریعہ اسے ناکام بنانا جانتے ہیں۔
نوجوان مذہبی اسکالر نے مزید کہا کہ "ہم مولانا سید کلب جواد صاحب جو مجلد علمائے ہند کے جنرل سیکریٹری ہیں کا احترام کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی انہیں انتباہ کرتے ہیں کہ جموں کشمیر میں زعفرانی پرچم تلے خاص آئیڈیولوجی کو ترویج کرنے اور یہاں کے صدیوں پرانے بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کریں۔ اگر وہ کشمیر سے حقیقی محبت کرتے ہیں تو وہ کشمیر کے معاملے کو اعلی سیاسی محاذ پر اٹھائیں کیونکہ 5 اگست کے بعد پورے ہندوستان میں کشمیریوں کے حق میں آواز بلند ہوئی لیکن جناب ایسی ہمت نہ کرسکے ۔
وسیم رضا کشمیری نے مزید کہا کہ "کشمیر لکھنؤ نہیں، یہاں صورتحال مختلف ہے اور کشمیری عوام متحد ہو کر مولانا جواد کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ ان کے قول و فعل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک خاص مشن پر وارد ہوئے تھے۔
نوجوان سیاسی تجزیہ نگار نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے اور اصل تنازعہ سے لے کر تعمیر و ترقی کے مسائل تک کوئی بھی حل تب تک ممکن نہیں جب تک کشمیریوں خصوصا نوجوانوں کو اعتماد میں نہیں لیا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲